ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار: لاک ڈاؤن کی میعاد میں توسیع کے دوران ماہی گیری اور کاشت کاری کے لئے رہے گی چھوٹ۔ ضلع انچارج وزیر ہیبار کا بیان

کاروار: لاک ڈاؤن کی میعاد میں توسیع کے دوران ماہی گیری اور کاشت کاری کے لئے رہے گی چھوٹ۔ ضلع انچارج وزیر ہیبار کا بیان

Sun, 12 Apr 2020 12:02:34    S.O. News Service

کاروار،12/اپریل (ایس او نیوز) شمالی کینرا کے ضلع انچارج وزیر کا عہدہ سنبھالنے کے بعدشیورام ہیبار نے کاروار پہنچ کر ڈپٹی کمشنر، ایس پی او ردیگر محکمہ جاتی افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور کورونا وباء کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

میٹنگ کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں وباء کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھ کر لاک ڈاؤن کی میعاد میں توسیع کی گئی ہے۔لیکن اس دوران ماہی گیری اور کاشت کاری کے لئے چھوٹ دی جائے گی۔مضافات میں رہنے والے لوگ اپنے مقام پر ہی رہ کر کاشت کاری کا کام کرسکیں گے، البتہ شہروں میں لوگوں کی چہل پہل پر روک لگی رہے گی۔

اسی دوران وزیر بندرگاہ اور ماہی گیری کوٹا سرینواس پجاری نے بیان جاری کیا ہے کہ مرکزی حکومت کی ہدایت اور ریاستی وزیراعلیٰ کے حکم کے مطابق 12اپریل سے دیسی کشتیوں پر روایتی ماہی گیری کی اجاز ت دی جارہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے قوانین پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے لوگوں سے مناسب سماجی فاصلہ بنا کر مچھلیاں فروخت کی جاسکیں گی۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی کینرا، اڈپی ضلع اور شمالی کینرا میں 14دیسی اور روایتی کشتیوں پر ماہی گیری کی جاتی ہے۔ اس رعایت سے ان لوگوں کو راحت ملے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گہرے سمندروں میں مشینی کشتیوں سے ماہی گیری کے لئے کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔اس لئے اب چونکہ مئی کے آخر تک لاک ڈاؤن ختم نہیں ہوگا اس لئے گہرے سمندر میں ماہی گیری کا سیزن فطری طور پر ختم ہوگیا ہے، کیونکہ مانسون کی آمد کے پیش نظر ہر سال 31مئی سے گہرے سمندر میں ماہی گیری پرقانونی پابندی لگائی جاتی ہے۔ اب دوبارہ یہ سیزن مانسون کے بعد ہی شروع ہوگا۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر روایتی اور دیسی کشتیوں کی طرح گہرے سمندر میں مشینی کشتیوں کو چھوٹ دی گئی ہوتی تب بھی ان کے لئے ایک اور مشکل مزدوروں کی قلت کی شکل میں موجود تھی۔ کیونکہ لاک ڈاؤن کے بعد دیگر ریاستوں کے مزدور اپنے اپنے گاؤں کی طرف واپس جاچکے ہیں اور ان کے جلد لوٹ آنے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ اس طرح ماہی گیری سے متعلق افراد کو امسال زبردست نقصان اٹھانا پڑے گا۔


Share: